alkhair facebook alkhair tweeter alkhair youtubealkhair in alkhair inalkhair inal khair home

اپ ڈیٹ - 2 اگست 2015

rain flood al khair 2015

ملک میں جاری مون سون بارشوں نے تباہی مچادی ہے، مکانات کی چھتیں گرنے اور دیگر واقعات میں 17 افراد جاں بحق ہوگئے، خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں دو روز سے جاری بارشوں نے تباہی مچارکھی ہے، کرک میں مکانات کی چھتیں گرنے اور دیگر واقعات میں 11 افراد جاں بحق اور 13 زخمی ہوگئے۔ہنگو میں بارشوں سے کچے مکانات کی چھتیں گرنے سے 2 بچے جاں بحق اور 9 افراد زخمی ہوئے۔ کوہاٹ میں میں دو روز سے کبھی ہلکی تو کبھی تیز بازش ہورہی ہے، کوہاٹ میانوالی روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث تحصیل شکر درہ کا دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ۔بنوں میں بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ نوشہرہ ، ایبٹ آباد، مانسہرہ سمیت دیگر شہروں میں بھی بارش ہورہی ہے۔ پنجاب میں بھی مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔میانوالی میں موسلادھار بارش نے جل تھل ایک کردیا، ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 147 ملی میٹر بارش رکارڈ کی گئی۔ فیصل آباد میں بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ ڈیرہ غازی خان میں مکان کی چھت گرنے سے ایک بچہ زندگی کی بازی ہار گیا۔ وہاڑی میں چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور 2 افراد زخمی ہوئے ،جبکہ میاں چنوں میں باپ بیٹی چھت کے ملبے تلے دب کرموت کے منہ میں چلے گئے۔ سرگودھا، گوجرانوالہ، بھکر، کمالیہ، میانوالی اور چیچہ وطنی سمیت دیگر شہروں میں بھی بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

al khair chitral battered by disastrous flood 2015

اپ ڈیٹ - 29 جولائی 2015

سیلاب نے خوبصورت وادیوں کی سرزمین چترال کو کھنڈرات میں بدل دیا ، پل ، سڑکوں اور سیکڑوں مکانوں کا نام و نشان مٹ گیا ، گاوٴں موری بالا میں 10 گھر سیلابی ریلے میں بہہ گئے ، متاثرہ علاقوں میں غذائی قلت کا خدشہ منڈلانے لگا ، تعفن سے وبائی امراض بھی سراٹھانے لگے ۔تباہی کی داستان سناتی چترال کی یہ سرزمین بے رحم سیلاب سے پہلے جنت نظیر کہلاتی تھی لیکن اب یہاں رواں دواں زندگی کی بجائے ہر طرف بربادی ہی بربادی ہے۔دل لبھاتی وادیاں کھنڈر بن چکیں ، سڑکیں پانی میں بہہ گئیں ، پل ٹوٹنے سے آبادیاں ایک دوسرے سے کٹ کر رہ گئیں۔ بچی کچھی زندگی بھی لینڈ سلائیڈنگ کے سبب محصور ہوگئے ۔متاثرین بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں ، متاثرہ علاقوں میں غذائی قلت کا خدشہ بھی سر اٹھانے لگا ہے جبکہ ہزاروں جانوروں کی ہلاکت کے باعث اٹھنے والے تعفن سے وبائی امراض پھوٹنے کا بھی خطرہ بڑھ گیا ہے۔بارشیں ہیں کہ سیلابی ریلوں کا زور کم ہونے نہیں دے رہیں ، موسلا دھار بارش سے سنگور گول اور مولن گول نالے میں طغیانی نے مکینوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ، علاقے میں مکئی کی فصل کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔مستوج کے علاقے برپ میں ندی نالوں نے بھی تباہی مچا رکھی ہے ، دو درجن سے زائد مکانات اور ایک سکول کا اب کوئی وجود نہیں ، گرم چشمہ سمیت اکثر علاقوں کا زمینی رابطہ بھی کٹا ہوا ہے۔

دوسری خبر ---

chitral al khair

چترال : سیلاب نے چترال میں 32 افراد کی جان لے لی، سیکڑوں مکانات تباہ اور 400 سے زائد متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

سیلاب سے چترال کی خوبصورت وادیاں ملیا میٹ، سیلابی ریلے سب کچھ بہالے گئے، 32 افراد زندگی کی بازی ہار گئے، 300 سے زائد مکانات تباہ ہوگئے، ریسکیو آپریشن میں 400 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا

لین گول کے علاقے سے بھی سیکڑوں افراد محفوظ مقام پر منتقل ہوئے، حالات بہتر ہونے پر واپسی کا عمل شروع ہوگیا، موری میں مزید 5 مکانات تباہ ہوگئے

al khair flood 2015 al khair current affairs

اپ ڈیٹ - 22 جولائی 2015

الخیر رضا کاروں کے مطابق حالیہ سیلاب سے صوبہ پنجاب میں لیہ اور کوٹ ادو کے تقریباً ایک سو گاؤں متاثر ہوئے ہیں۔

رضا کاروں کے مطابق بارشوں سے متاثرہ اضلاع لیہ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور مظفر گڑھ میں انتظامیہ نے ان علاقوں کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی وارننگ جاری کی ہے۔

دریائے سندھ سے آنے والا ایک بڑا سیلابی ریلہ آئندہ تین سے چار روز کے دوران ان علاقوں سے گزرے گا۔

رضا کاروں کے مطابق پنجاب کے وزیراعلیٰ نے صوبے میں کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے بھی دریائے سندھ کے کچے کے علاقے سے لوگوں کومحفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

انھوں نے سیلاب کی صورتحال کی نگرانی کے لیے سندھ سیکریٹریٹ کراچی میں بھی ایک کنٹرول روم قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ادھر صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع چترال میں پانچ دن پہلے ہونے والی طوفانی بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے کئی علاقوں کا ملک کے دیگر شہروں سے زمینی رابطہ بدستور منقطع ہے جس سے کئی مقامات پر خوراک کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔چترال سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعرات کو ہونے والی مون سون بارشوں کی وجہ سے ضلعے کی بیشتر وادیوں میں سیلابی ریلے آئے تھے جس کی وجہ سے گرم چشمہ، وادی کیلاش، بمبورت، رمبور، کریم آباد، حسن آباد اور تحصیل مستنوج کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر سڑکیں، رابط پل، مکانات اور دکانیں پانی میں بہہ گئے تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ چترال سے پشاور کی مرکزی شاہراہ پر واقع پل بھی سیلابی پانی کے نذر ہوگیا تھا تاہم مقامی انتظامیہ کی کوششوں سے مرکزی شاہراہ پر اب ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔

al khair bbc news sharing al khair

چترال کے مقامی رضا کاروں نے بتایا کہ کئی وادیوں سے زمینی راستے گزشتہ پانچ دنوں سے بدستور منقطع ہیں جس سے بیشتر علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت پیدا ہورہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پیر کو پہلی دفعہ فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء پہنچائی گئی ہیں، تاہم اب بھی ایسے علاقے موجود ہیں جہاں امداد نہیں پہنچی۔ ان کے مطابق مقامی انتظامیہ کی جانب سے سڑکوں اور پلوں کی بحالی کے لیے تاحال امدادی کاموں کاآغاز نہیں کیا جا سکا ہے جس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ سیلابی ریلوں کی وجہ سے اب تک 40 سے زائد مکانات، 100 کے قریب دکانیں، مساجد اور دیگر عبادت خانے تباہ ہو چکے ہیں جبکہ تین افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے چترال میں مون سون بارشوں سے متاثر ہونے والی سڑکوں اور پلوں کی فوری بحالی کی ہدایت کی ہے اور امدادی کاموں کےلیے دس لاکھ روپے کا فنڈ جاری کر دیا ہے۔

 

چترال میں تین لاکھ شہری سیلابی پانی میں محصور

پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں سیلاب کے نتیجے میں تین افراد ہلاک جبکہ تین لاکھ سے زائد مختلف علاقوں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ سیلاب میں گھرے علاقوں میں اشیائے خورد و نوش کی قلت بھی پیدا ہوگئی ہے۔

chitral flood 2015 al khair چترال سیلاب میں الخیر ٹرسٹ کی خدمات

پانی اور ادویات کی قلت کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ سیلاب سے سو سے زائد گھر، چالیس رابطہ پُل، بجلی گھر اور پانی اور بجلی کی فراہمی کے نظام بھی تباہ ہو گئے ہیں جبکہ ساٹھ سے ستر فیصد تک کھڑی فصلیں بھی برباد ہو گئی ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے ان علاقوں کے ملک کے دیگر حصوں سے رابطے بھی منقطع ہوگئے ہیں جبکہ ان علاقوں میں امداد پہنچانے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رابطہ پُل تباہ ہونے کی وجہ سے بعض پہاڑی علاقوں میں پھنسے لوگوں تک رسائی میں مشکلات درپیش ہیں۔ دوسری جانب فوج، فضائیہ، نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اور صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کا علمہ بھی چترال پہنچ چکا ہے جہاں اشیائے ضرورت کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔

امدادی کاموں میں سب سے اہم کردار فوج اور فضائیہ ادا کر رہے ہیں۔ ملکی فوج کے جوانوں نے آج بدھ کے روز مزید ساٹھ لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچایا، جن میں بچے، بوڑھے اور سیاح بھی شامل تھے جبکہ مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں تک آٹھ ٹن اشیائے خورد و نوش بھی پہنچائی گئیں۔ فوج کے انجینیئر نے دن رات کام کر کے دو اہم رابطہ پُلوں کو بحال کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں اشیائے ضرورت پہنچانا شروع کر دی ہیں جبکہ ڈاکٹروں کی مختلف ٹیموں نے بھی ضلع کے مختلف علاقوں میں متاثرہ افراد کو طبی امداد کی فراہمی کا کام شروع کردیا ہے۔

چترال رقبے کے لحاظ سے صوبے کا سب سے بڑا، زرخیز اور پُرامن ضلع ہے، جس کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے وہاں کے لاکھوں لوگوں کا سات روز سے ملک کے دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہے۔ چترال کے سماجی کارکنان نے بتایا کہ گزشتہ سال بھی سیلاب سے لوگوں کا لاکھوں کا نقصان ہوا تھا لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے بحالی کے وعدے پورے نہیں کیے گئے تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب کی بڑی وجہ صوبے میں جنگلات کی بےدریغ کٹائی ہے، جو حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب سولہ سال بعد کسی وزیر اعظم نے چترال کا دورہ کیا ہے جبکہ ایک لواری ٹنل ہی گزشتہ چار عشروں میں مکمل نہیں ہو سکی۔‘‘

محکمہ موسمیات کے مطابق صوبے خیبر پختونخوا میں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ ممکنہ طور پر مزید سات دن تک جاری رہے گا۔

 

 

alkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charity
alkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charity
alkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charity
alkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charity
alkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charity
alkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charity
alkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charity
alkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charity
alkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charityalkhair tahir ansari rescue relief news islamic logo welfare charity